Bunyad - A Journal of Urdu Studies, Lahore University of Management Sciences - Lahore

بنیاد (مجّلہ دراساتِ اردو)

Gurmani Centre for Languages and Literature
ISSN (print): 2225-6083
ISSN (online): 2709-9687

Call for Papers Bunyād 2027

 
 
بنیاد کے آئندہ شمارے (جلد 18، 2027ء) میں "ادب اور یادداشت" کے موضوع پر خصوصی گوشہ ترتیب دیا جا رہا ہے ۔ درج ذیل مرکزی خیال ( تھیم ) کو مدِنظر رکھ کر مقالات بھجوائے جاسکتے ہیں۔
"ادب بلاشبہ تخیل کی پیداوار ہے،مگر تخیل کم یازیادہ، راست یا بالواسطہ یادداشت پر انحصار کرتا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یادداشت، ادب میں اپنے اظہار کے لیے تخیل کا سہارا لیتی ہے۔ یادداشت ، کبھی تخیل کو مہین پردہ بناتی ہے، کبھی دبیز اور کبھی اس پردے کو ہٹا بھی دیا کرتی ہے۔ خود نوشت سوانحی تحریروں، خاکوں، رپورتاژ میں۔ یادداشت،شخصی بھی ہوتی ہے، اجتماعی بھی۔ انفرادی، آبائی، نسلی، تاریخی و تہذیبی بھی۔ زبانی، تحریری، میڈیائی ہواکرتی ہے۔ یادداشت سرسری، گہری جذباتی، آرزومندانہ، خواب ناک، کئی طرح کی ہوتی ہے۔ یہ مکمل، شکستہ، چیدہ، حقیقی و افسانوی بھی ہوا کرتی ہے۔ ادب میں یہ ناستلجیا، صدمے، شناخت، بازیافت کا وسیلہ ہوا کرتی ہے۔ حافظہ، فراموشی کے خلاف جدوجہد ہی نہیں، شناخت و آئیڈیالوجی کی سیاست کی آماج گاہ بھی ہے۔ نوآبادیاتی عہد نے استعمار زدوں کی یادوں کو ازسرنو ترتیب دیا، انھیں مسخ کیا، اور ان کی شناخت میں مداخلت کی۔ تقسیم کے صدمے نے یادوں کی ایک نئی، اذیت ناک دنیا کو جنم دیا۔ جلاوطنی، مہاجرت، دربدری نے ادب میں یادداشتوں کو ایک نیا کردار تفویض کیا۔ جدید عہد کے ادب کا بڑا حصہ، یاد پر مبنی ہے۔ عالمی سطح پر مطالعہ حافظہ (Memory Studies)، ادب کے مطالعات کا اہم میدان ہے"۔
اس مرکزی خیال کی روشنی میں اردوغزل ،ناول ، افسانے، آپ بیتی، سوانح، سفرنامے کے مطالعات پر مبنی مقالات بھجوائے جاسکتے ہیں۔ بنیاد توقع رکھتا ہے کہ مقالہ نگار، ادب میں یادداشت کے عمل دخل اور صورت کا مطالعہ کرتے ہوئے، اس کے نظری پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کریں گے۔
ذیلی موضوعات:
• ادب کی تخلیق میں یادداشت کا عمومی کردار
• ادبی کرداروں کی شناخت کی تشکیل میں یادداشت کا عمل دخل
• ماضی کی بازیافت (Retrieval of the Past)
• کلاسیکی، جدید اور معاصر ادب میں یادداشت کی پیش کش میں فرق
• ذاتی، شخصی اور قومی یادداشتوں کا تقابلی و تجزیاتی مطالعہ
• شعرو فکشن میں ناستلجیا
• ماقبل نوآبادیاتی دور کی ادب میں یادداشت
• تقسیمِ ہند اور دیگر قومی سانحات پر مبنی ادب میں حافظے کا کردار
• نائن الیون (9/11)کے بعد کے ادب میں حافظے اور یادوں کی تشکیل ت
• مابعد یادداشت (Postmemory): دوسری اور تیسری نسل میں منتقل ہونے والے حافظے کا ادب میں مطالعہ
• ادب میں فراموشی اور خاموشی (Amnesia and Silence in Literature)شعوری فراموشی یا بھلا دی گئی تاریخی یادوں کی ادب میں بازیافت۔
• انفرادی اور اجتماعی حافظہ: ذاتی یادوں اور ریاستی یا سماجی بیانیوں کے درمیان تصادم اور ہم آہنگی۔
• ہجرت، جلاوطنی اور تارکینِ وطن کا ادب
• شہر آشوب اور مکانی یادداشت (Spatial Memory)بدلتے ہوئے شہروں، کھنڈرات اور مخصوص مقامات سے جڑی یادیں۔
مقالات جمع کروانے کی حتمی تاریخ 20 جنوری 2027ء ہے۔
مقالات درج ذیل ای میل پر ارسال کیے جاسکتے ہیں:
bunyaad@lums.edu.pk

Related News